اتوار، 11 اکتوبر، 2015

کچھ میرے بارے میں۔۔۔

میرا تعلق لاہور کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ معتدل اور قدرے کم مذہبی خاندان سے ہونے کے باجودنہ  جانے کیوں بچپن سے ہی کافی لوگ مجھے حافظ جی بلایا کرتے۔ مجھے اور تو کوئی مناسب وجہ نظر نہیں آتی بس اتنا یاد ہے کہ ہم سب بہن بھائیوں کو جیسے تیسے بہت چھوٹی عمر میں ہی قرآن پاک بہت اچھے طریقے سے پڑھا دیا گیا تھا ۔ باقی ہم عمر بچوں کی نسبت ہمارے لیے آیات اور عربی متن پڑھنا اور بیشتر پڑھی گئی چیزوں کو یاد رکھنا کسی جوئے شیر لانے کے مترادف نہ تھا۔ بچپن کے اس ٹائٹل سے اکثر شرمندگی بھی ہوتی کہ ایسا بڑا انعام اور اتنی بڑی نعمت مجھ سے منسوب کردی جاتی  ہے جسکا میں اہل بھی نہیں ۔ بس یونہی پھر حفظ کا ارادہ بھی  بن گیا ۔ مدرسوں کے ماحول ، وہاں کے اساتذہ کے شعوری مقام اور بڑوں کے بہت سے دیگر خدشات کی وجہ سے اسکول کی پہلی آٹھ جماعتوں میں ایسا کرنا ممکن نہ ہوپایا۔ البتہ آٹھویں کے بعدضدی لاڈلہ بنتے ہوئے  والدین کو مدرسے میں اپنے داخلے پر آمادہ کر ہی لیا۔ مدرسے کا زمانہ ایک سال کا تھا۔ حفظ مکمل تو ہوا ساتھ  زندگی کے الگ رنگ ڈھنگ اور اک نئی دنیا دیکھنے کا جیسے موقع ملا یہ ایک الگ کہانی ہے۔
جب ہم اپنے کنویں سے باہر نکلتے ہیں تب اک نئی روشنی، نئے آسمان اور نئی وسعتیں لیے اک منفرد جہان کا سامنا ہوتا ہے ۔ 
ہمیشہ ماں باپ کے سامنے رہنے والےاس بچے کےلیے گھریلو ماحول سے نکل کر یہ کنویں سے باہر کی دنیا ہی تھی۔ مدرسے کے ماحول سے جہاں میری کچھ تلخ یادیں وابستہ ہیں وہیں بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔ مدرسوں کے ماحول بارے ہمارا عمومی تاثر اچھا نہیں۔ اس میں بہت حد تک صداقت بھی ہے ۔ لیکن جہاں کچھ اچھا نہ ہو، وہاں بھی سیکھنے والوں کو بہت کچھ مل جاتا ہے ۔میرا مشاہدہ ہے کہ مدارس کے معاملے میں اکا دُکا اچھی چیزیں ان گنت منفی چیزوں کے انتہائی ثقیل بوجھ تلے دب سی گئی ہیں۔ 
                قصہ مختصر۔۔۔ وقت طے ہوتا گیا، مدرسے کے عمومی طالب علموں کے برعکس مزید تعلیم جاری رہی۔ انہی شب و    روز سے گزرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی تک پہنچا۔ نصاب بھی چلتا رہا، اور زمانے کے سبق بھی ۔ لوگوں کے رویے  پڑھنے بھی سیکھ لیے اور جذبوں کی قدر کرنا بھی آ تا گیا ۔ اپنی ذات میں شکست و ریخت کے عمل سے میں رُکا نہیں، چلتا رہا، خود کومسلسل بدلتا رہا ۔ کامیابیاں بھی سمیٹیں اور ناکامیاں بھی مقدر کا حصہ رہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کی حقیقتیں تلخ سے تلخ تر ہوتی  چلی گئیں۔ وقت ہی نے سکھایا کہ زمانے کی بہت سی صداقتیں اور حقائق  ہمارے سچ سے مختلف ہوتے ہیں۔ 
گزرتے شب و روز میں جانے کب،  علم و ادب اور بیان و زبان سے بھی رغبت ہوگئی، معلوم نہیں ۔  خود بھی بکھرتے خیالات کسی لڑی میں پرونے کی سعی کر لیتا ہوں۔ یہ کہنے میں مجھے عار نہیں کہ میں شاعر بھی نہیں ہوں کہ میرے لفظوں میں شاعروں سی تاثیر نہیں، بقراط و سقراط بھی نہیں، اور ناہی  ادیب ہونے کا دعوٰی ہے،محض اک طالب علم ہوں جو مسلسل سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہے ۔ میرا کُل سرمایہ اساتذہ اور اہل علم و ادب سے انس ہی ہے  ۔ 
          پچھلے کچھ  سال سےسعودیہ میں کوالٹی مینجمنٹ کے شعبے سے وابسطہ ہوں۔ اور جب بھی موقع ملتا ہے کچھ وقت پڑھنے لکھنے کی کوشش میں لگ جاتا ہوں۔ مکالمہ پسند ہے کہ اس سےسیکھنے کو ملتا ہے لیکن  بوجوہ اب پڑھنے پر ہی اکتفا رہنے لگا ہے ۔ میرا پڑھنے لکھنے کا معاملہ بس اتنا ہی ہے ۔  
 قصہ تمام شد!

ح۔ م ۔ ارشد محمود 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں